مسند امام احمد - - حدیث نمبر 457
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ سَأَلَعَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ أَوَّلَهُ وَأَوْسَطَهُ وَآخِرَهُ فَانْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ أَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوِتْرُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.
وتر رات کے اول اور آخر دونوں وقتوں میں جائز ہے
مسروق سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ کے وتر کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ہے۔ شروع رات میں بھی درمیان میں بھی اور آخری حصے میں بھی۔ اور جس وقت آپ کی وفات ہوئی تو آپ کا وتر سحر تک پہنچ گیا تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، جابر، ابومسعود انصاری اور ابوقتادہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم کے نزدیک یہی پسندیدہ ہے کہ وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھی جائے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوتر ٢ (٩٩٢)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢١ (١١٨٦)، ( تحفة الأشراف: ١٧٦٥٣)، مسند احمد (٦/٤٦، ١٠، ١٠٧، ١٢٩، ٢٠٤، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١١ (١٦٢٨) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: ان دونوں حدیثوں اور اس باب میں مروی دیگر حدیثوں کا ماحصل یہ ہے کہ یہ آدمی پر منحصر ہے، وہ جب آخری پہر رات میں اٹھنے کا یقین کامل رکھتا ہو تو عشاء کے بعد یا سونے سے پہلے ہی وتر نہ پڑھے بلکہ آخری رات میں پڑھے، اور اگر اس طرح کا یقین نہ ہو تو عشاء کے بعد سونے سے پہلے ہی پڑھ لے، اس مسئلہ میں ہر طرح کی گنجائش ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1185)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 456
Top