مسند امام احمد - - حدیث نمبر 2072
حدیث نمبر: 2015
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ لِمَ تَرَكْتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْأَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مَسَسْتُ خَزًّا قَطُّ وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا كَانَ أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا شَمَمْتُ مِسْكًا قَطُّ وَلَا عِطْرًا كَانَ أَطْيَبَ مِنْ عَرَقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اخلاق نبوی ﷺ
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک نبی اکرم کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے اف تک نہ کہا، اور نہ ہی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو تم نے ایسا کیوں نہیں کیا، رسول اللہ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق کے آدمی تھے، میں نے کبھی کوئی ریشم، حریر یا کوئی چیز آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم اور ملائم نہیں دیکھی اور نہ کبھی میں نے کوئی مشک یا عطر آپ کے پسینے سے زیادہ خوشبودار دیکھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ اور براء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوصایا ٢٥ (٢٧٢٨)، والمناقب ٢٣ (٣٥٦١)، والأدب ٣٩ (٦٠٣٨)، والدیات ٢٧ (٦٩١١) (في جمیع المواضع بالشطر الأول فحسب)، صحیح مسلم/الفضائل ١٣ (٢٣١٠) (بالشطر الأول فحسب) و ٢١ (٢٣٣٠) (بالشطر الأخیر)، سنن ابی داود/ الأدب ١ (٤٧٧٧٣) (في سیاق طویل بالشطر الأول فحسب) (تحفة الأشراف: ٢٦٤)، و مسند احمد (٣/١٠١، ١٢٤، ١٧٤، ٢٠٠، ٢٢٧، ٢٢١، ٢٥٥) (صحیح )
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل المحمدية (296)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2015
Top