مسند امام احمد - - حدیث نمبر 402
حدیث نمبر: 402
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي:‏‏‏‏ يَا أَبَةِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرَ،‏‏‏‏ وَعُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَا هُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَكَانُوا يَقْنُتُونَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ.
قنوت کو ترک کرنا
ابو مالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ (طارق بن اشیم ؓ ) سے عرض کیا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور علی ؓ کے پیچھے بھی یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ برس تک پڑھی ہے، کیا یہ لوگ (برابر) قنوت (قنوت نازلہ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ بدعت ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/التطبیق ٣٢ (١٠٨١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤ (١٢٤١)، ( تحفة الأشراف: ٤٩٧٦)، مسند احمد (٣/٤٧٢) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: یعنی: اس میں برابر پڑھنا مراد ہے نہ کہ مطلق پڑھنا بدعت مقصود ہے، کیونکہ بوقت ضرورت قنوت نازلہ پڑھنا ثابت ہے جیسا کہ گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1241)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 402
Top