مسند امام احمد - - حدیث نمبر 3907
حدیث نمبر: 3907
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ،‏‏‏‏ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
قریش و انصار کی فضیلت
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: انصار میرے راز دار اور میرے خاص الخاص ہیں، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/مناقب الأنصار ١١ (٣٨٠١)، صحیح مسلم/فضائل الأنصار ٤٣ (٢٥١٠) (تحفة الأشراف: ١٢٤٥) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3907
Top