مسند امام احمد - - حدیث نمبر 243
حدیث نمبر: 3840
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ لِمَ كُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأَهَابُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمَ أَهْلِي وَكَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ،‏‏‏‏ فَكُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي،‏‏‏‏ فَلَعِبْتُ بِهَا،‏‏‏‏ فَكَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
حضرت ابوہریرہ ؓ کے مناقب
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ سے پوچھا: آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٥٦٠) (حسن الإسناد)
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3840
Top