مسند امام احمد - - حدیث نمبر 3746
حدیث نمبر: 3746
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَوْصَى الزُّبَيْرُ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ صَبِيحَةَ الْجَمَلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنِّي عُضْوٌ إِلَّا وَقَدْ جُرِحَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى ذَاكَ إِلَى فَرْجِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر ؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ ؓ کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٦٢٧) (صحیح الإسناد)
وضاحت: ١ ؎: یہ وصیت انہوں نے اس لیے کی کہ جو قربانیاں ہم نے غلبہ دین حق کے لیے دی تھیں اور اسلام ان قربانیوں کے عوض دنیا پر غالب آگیا ہے، آج اسی قوت، طاقت، صلاحیت اور قربانی کو ہم آپس میں ضائع کر رہے ہیں چناچہ زبیر ؓ جنگ جمل سے دست بردار ہو کر واپس مکہ ( یا مدینہ طیبہ ) کی طرف پلٹ آئے تھے اور آپ کو راستے میں کسی نے شہید کردیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3746
Top