مسند امام احمد - - حدیث نمبر 3658
حدیث نمبر: 3714
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِيَ ابْنَتَهُ،‏‏‏‏ وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ،‏‏‏‏ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ،‏‏‏‏ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ،‏‏‏‏ وَمَا لَهُ صَدِيقٌ، ‏‏‏‏‏‏رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ، ‏‏‏‏‏‏رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ.
مناقب حضرت علی بن ابی طالب ؓ آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کردی اور مجھے دارلہجرۃ (مدینہ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے (خرید کر) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ (اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ) ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ٣- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠١٠٧) (ضعیف) (سند میں مختار بن نافع ضعیف اور ساقط راوی ہیں، الضعیفة ٢٠٩٤)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا، الضعيفة (2094)، المشکاة (6125) // ضعيف الجامع الصغير (3095) بأتم من هنا //
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3714
Top