مسند امام احمد - - حدیث نمبر 3695
حدیث نمبر: 3695
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَرْعَى غَنَمًا لَهُ إِذْ جَاءَ ذِئْبٌ فَأَخَذَ شَاةً، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الذِّئْبُ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَآمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا،‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو سَلَمَةَ:‏‏‏‏ وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا: اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کرلے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا: درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہوگا تو کیسے کرے گا؟ اس پر رسول اللہ نے فرمایا: میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی ، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ٣٦٧٧ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح وهو تمام الحديث (3944)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3695
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح وهو تمام الحديث (3944)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3695
Top