مسند امام احمد - - حدیث نمبر 3790
حدیث نمبر: 1784
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُكَانَةُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلَا نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا ابْنَ رُكَانَةَ.
محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم سے کشتی لڑی تو نبی اکرم نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ کو کہتے ہوئے سنا: ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی سند قائم (صحیح) نہیں ہے، ٣ - ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ اللباس ٢٤ (٤٠٧٨)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٤) (ضعیف) (اس کے راوی ابو جعفر بن محمد مجہول ہیں نیز محمد بن علی یزید بن رکانہ اور ان کے پردادا رکانہ یا محمد بن یزید بن رکانہ ان کے دادا کے درمیان انقطاع ہے، اس بابت سخت اختلاف ہے دیکھئے: تہذیب الکمال )
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشکاة (4340)، الإرواء (1503) // ضعيف الجامع الصغير (3959)، ضعيف أبي داود (882 / 4078) //
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1784
Top