مسند امام احمد - - حدیث نمبر 3223
حدیث نمبر: 3223
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا قَضَى اللَّهُ فِي السَّمَاءِ أَمْرًا ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَالشَّيَاطِينُ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
تفسیر سورت سبا
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا: جب اللہ آسمان پر کسی معاملے کا حکم و فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے عجز و انکساری کے ساتھ (حکم برداری کے جذبہ سے) اپنے پر ہلاتے ہیں۔ ان کے پر ہلانے سے پھڑپھڑانے کی ایسی آواز پیدا ہوتی ہے تو ان زنجیر پتھر پر گھسٹ رہی ہے، پھر جب ان کے دلوں کی گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: حق بات کہی ہے۔ وہی بلند و بالا ہے ، آپ نے فرمایا: شیاطین (زمین سے آسمان تک) یکے بعد دیگرے (اللہ کے احکام اور فیصلوں کو اچک کر اپنے چیلوں تک پہنچانے کے لیے تاک و انتظار میں) لگے رہتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر ١ (٤٧٠١)، والتوحید ٣٢ (٧٤٨١)، سنن ابی داود/ الحروف ٢١ (٣٩٨٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٤) (تحفة الأشراف: ١٤٢٤٩) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: یہ ارشاد باری تعالیٰ «ولا تنفع الشفاعة عنده إلا لمن أذن له حتی إذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربکم قالوا الحق وهو العلي الكبير» (سبأ: 23 ) کی طرف اشارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (194)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3223
Top