سنن الترمذی - فضائل قرآن کا بیان۔ - حدیث نمبر 4530
حدیث نمبر: 3894
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ:‏‏‏‏ بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا يُبْكِيكِ ؟ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ:‏‏‏‏ إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّكِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ،‏‏‏‏ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ،‏‏‏‏ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ،‏‏‏‏ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ؟ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ازواج مطہرات کی فضیلت کے بارے میں
انس ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ ؓ نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ تو انہوں نے کہا: حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم نے فرمایا: تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ١ ؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے (حفصہ سے) فرمایا: حفصہ! اللہ سے ڈر ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: یعنی صفیہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں، اور ان کے بھائی ہارون بھی نبی تھے، تو باپ اور چچا دونوں نبی ہوئے، ویسے حفصہ بھی ایک ( نبی اسماعیل (علیہ السلام) ) کی اولاد میں سے تھیں، اور اسماعیل کے بھائی اسحاق ( چچا ) بھی نبی تھے، اور نبی کی زوجیت میں بھی تھیں، اس لحاظ سے دونوں برابر تھیں، صرف اس طرح کے تفاخر سے آپ کو انہیں تنبیہ کرنا مقصود تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشکاة (6183)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3894
Top