مسند امام احمد - - حدیث نمبر 399
حدیث نمبر: 2180
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى خُيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، ‏‏‏‏‏‏يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى:‏‏‏‏ اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ سورة الأعراف آية 138، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
اس بارے میں سابقہ امتوں کی عادات اس امت میں بھی ہوگی
ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ١ ؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے ٢ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابو واقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے، ٣ - اس باب میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١٤٥١٦) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: ذات انواط نامی درخت جھاؤ کی قسم سے تھا، مشرکین بطور حاجت برآری اس پر اپنا ہتھیار لٹکاتے اور اس درخت کے اردگرد اعتکاف کرتے تھے۔ ٢ ؎: مفہوم یہ ہے کہ تم خلاف شرع نافرمانی کے کاموں میں اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے، نبی اکرم کے اس فرمان کے مطابق آج مسلمانوں کا حال حقیقت میں ایسا ہی ہے، چناچہ یہود و نصاری اور مشرکین کی کون سی عادات و اطوار ہیں جنہیں مسلمانوں نے نہ اپنایا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ظلال الجنة (76)، المشکاة (5369)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2180
Top