مسند امام احمد - حضرت زید بن خارجہ (رض) کی حدیث - حدیث نمبر 3987
حدیث نمبر: 3736
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ أَخِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ . قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ:‏‏‏‏ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی امی نے مجھ سے فرمایا: تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے ١ ؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم نے دعا فرمائی ٢ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان ٣٣ (٧٨)، سنن النسائی/الإیمان ١٩ (٥٠٢١)، و ٢٠ (٥٠٢٥)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٤) (تحفة الأشراف: ١٠٠٩٢) و مسند احمد (١/٨٤، ٩٥) (صحیح)
وضاحت: ١ ؎: اس سے شرعی محبت اور عداوت مراد ہے، مثلاً ایک آدمی علی سے تو محبت رکھتا ہے مگر ابوبکر و عمر ؓ سے بغض رکھتا ہے تو اس کی محبت ایمان کی علامت نہیں ہوگی، اور جہاں تک بغض کا معاملہ ہے، تو صرف علی ؓ سے بھی بغض ایمان کی نفی کے لیے کافی ہے، خواہ وہ ابوبکر و عمر و عثمان ؓ سے محبت ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔ ٢ ؎: یعنی: ارشاد نبوی اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہے، کہ مصداق میں اس دعائے نبوی کے افراد میں شامل ہوں کیونکہ میں علی ؓ سے محبت رکھتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (114)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3736
Top