مسند امام احمد - - حدیث نمبر 1482
حدیث نمبر: 1482
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً بِالضَّرْبَةِ الْأُولَى،‏‏‏‏ كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً،‏‏‏‏ فَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ،‏‏‏‏ كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً،‏‏‏‏ فَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ،‏‏‏‏ كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَسَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ شَرِيكٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
چھپکلی کو مارنا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو چھپکلی ١ ؎ کو پہلی چوٹ میں مارے گا اس کو اتنا ثواب ہوگا، اگر اس کو دوسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہوگا اور اگر اس کو تیسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہوگا ٢ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، سعد، عائشہ اور ام شریک سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام ٣٨ (الحیؤن ٢) (٢٢٤٠)، سنن ابی داود/ الأدب ١٧٥ (٥٢٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٢ (٣٢٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٦١)، و مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: ہندوستان میں لوگ گرگٹ کو غلط طور پر وزع سمجھ کر اس کو مانا ثواب کا کام سمجھتے ہیں جب کہ وہ عام طور پر جنگل جھاڑی میں رہتا ہے اور چھپکلی اپنی ضرر رسانیوں کے ساتھ گھروں میں پائی جاتی ہے، اس لیے اس کا مارنا موذی کو مارنا ہے جس کے مارنے کا ثواب بھی ہے۔ ٢ ؎: صحیح مسلم میں ہے کہ پہلی چوٹ میں مارنے پر سو اور دوسری میں اس سے کم اور تیسری میں اس سے بھی کم نیکیاں ملیں گی، امام نووی کہتے ہی: پہلی چوٹ میں نیکیوں کی کثرت کا سبب یہ ہے تاکہ لوگ اسے مارنے میں پہل کریں اور اسے مار کر مذکورہ ثواب کے مستحق ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1482
Top