سنن النسائی - قسامت کے متعلق - حدیث نمبر 3200
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ جَنَازَتَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا.
نبی ﷺ کا نکاح سے متعلق فرمان اور ازواج مطہرات اور ان چیزوں کے بارے میں جو کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ پر حلال فرمائی لیکن لوگوں کے واسطے حلال نہیں کیا تاکہ یہ بات ظاہر ہو کہ نبی ﷺ کو ساری مخلوق پر بزرگی و فضیلت ہے۔
عطا کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عباس ؓ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے جنازے میں گئے، تو آپ نے کہا: یہ میمونہ ؓ ہیں، تم ان کا جنازہ نہایت سہولت کے ساتھ اٹھانا، اسے ہلانا نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس نو بیویاں تھیں۔ آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے، اور ایک کے لیے نہیں کرتے تھے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح ٤ (٥٠٦٧)، صحیح مسلم/الرضاع ١٤ (١٤٦٥)، (تحفة الأشراف: ٥٩١٤)، مسند احمد (١/٢٣١، ٣٤٨، ٣٤٩) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: جن کے لیے باری مقرر نہیں کرتے تھے وہ سودہ رضی الله عنہا ہیں انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی الله عنہا کو ہبہ کردی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3196
Narrated Ata: It was narrated that Ata said: "We attended the funeral of Maimunah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), with Ibn Abbas in Sarif. Ibn Abbas said: This is Maimunah; when you lift up her bier, do not rock it nor shake it. The Messenger of Allah had nine wives and he used to give a share of his time to eight of them and not to one.
Top