مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 4454
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ عَلَيْهِ أَوْ غُلِبْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ ؟ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ.
حضرت رسول کریم ﷺ کے رمل کرنے کی وجہ
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر سے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے، اس آدمی نے کہا: اگر میرے اس تک پہنچنے میں بھیڑ آڑے آجائے یا میں مغلوب ہوجاؤں اور نہ جا پاؤں تو؟ ابن عمر ؓ نے کہا: أرأیت ١ ؎ کو تم یمن میں رکھو، میں نے رسول اللہ کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج ٦٠ (١٦١١)، سنن الترمذی/الحج ٣٧ (٨٦١)، (تحفة الأشراف: ٦٧١٩) مسند احمد (٣/١٥٢) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: أرأیت مطلب یہ ہے کہ اگر مگر چھوڑو جسے سنت رسول کی جستجو ہوا سے اس طرح کے سوالات زیب نہیں دیتے یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے جہاں تک ممکن ہو کوشش کرنی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2946
Top