اگر کسی شخص کو دشمن حج سے روک دے تو کیا کرنا چاہیے؟
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہوگیا تو وہ حلال ہوگیا، اور اس پر دوسرا حج ہے (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں وعليه حجة أخرى ان پر دوسرا حج ہے کے بجائے وعليه الحج من قابل‏ آئندہ سال ان پر حج ہے کہا ہے۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ٢٨٦٣ (صحیح )
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2861
It was narrated from ‘Ikrimah, from Al-Hajjaj bin ‘Amr that the Prophet ﷺ said: “Whoever breaks his leg or suffers a leg injury, then he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj.” I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah (RA) and they said: “He spoke the truth.” And in his narration (one of the narrators) Shuaib said: “He has to perform Hajj the following year.” (Sahih)
Top