Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1368 - 1433)
Select Hadith
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
1391
1392
1393
1394
1395
1396
1397
1398
1399
1400
1401
1402
1403
1404
1405
1406
1407
1408
1409
1410
1411
1412
1413
1414
1415
1416
1417
1418
1419
1420
1421
1422
1423
1424
1425
1426
1427
1428
1429
1430
1431
1432
1433
مشکوٰۃ المصابیح - آنحضرت کے اخلاق وعادات کا بیان - حدیث نمبر 1503
وعن البراء بن عازب قال : أمرنا النبي صلى الله عليه و سلم بسبع ونهانا عن سبع أمرنا : بعيادة المريض واتباع الجنائز وتشميت العاطس ورد السلام وإجابة الداعي وإبرار المقسم ونصر المظلوم ونهانا عن خاتم الذهب وعن الحرير والإستبرق والديباج والميثرة الحمراء والقسي وآنية الفضة وفي رواية وعن الشرب في الفضة فإنه من شرب فيها في الدنيا لم يشرب فيها في الآخرة
مسلمان کے مسلمان پر حقوق
اور حضرت براء ابن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع فرمایا ہے وہ یہ ہیں۔ (١) بیمار کی عیادت کرنا (٢) جنازہ کے ہمراہ جانا (٣) چھینکنے والے کو جواب دینا (٤) سلام کا جواب دینا (٥) بلانے والے کی دعوت قبول کرنا (٦) قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کرنا (٧) اور مظلوم کی مدد کرنا۔ اور جن چیزوں سے منع فرمایا ہے وہ یہ ہیں (١) سونے کی انگوٹھی پہننے سے (٢) ریشم کے کپڑے پہننے سے (٣) اطلس کے کپڑے استعمال کرنے سے (٤) لاہی (دیباج) کے کپڑے پہننے سے (٥) سرخ زین پوش استعمال کرنے سے (٦) قسی کے کپڑے پہننے سے (٧) اور چاندی کے برتن استعمال کرنے سے۔ ایک روایت کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ چاندی کے برتن میں پینے سے (بھی منع فرمایا ہے) کیونکہ جو شخص چاندی کے برتن میں دنیا میں پئے گا آخرت میں اسے چاندی کے برتن میں پینا نصیب نہ ہوگا۔ (بخاری ومسلم
تشریح
قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پیش آنے والی بات کے بارے میں قسم کھائے اور تم اس کی قسم پوری کرنے پر قادر ہو اور اس میں کوئی گناہ بھی نہ ہو تو تمہیں اس کی قسم پوری کرنی چاہئے مثال کے طور پر کوئی شخص تمہیں مخاطب کرتے ہوئے قسم کھائے کہ میں تم سے جدا نہیں ہوں گا جب تک کہ فلاں کام نہ کروں، پس اگر تم اس کام کے کرنے پر قادر ہو تو وہ کام کر ڈالو تاکہ اس کی قسم نہ ٹوٹے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو یہ قسم دلائے کہ تمہیں اللہ کی قسم تم یہ کام کرو۔ تو اس شخص کے لئے مستحب ہے کہ وہ پروردگار کے نام کی تعظیم کی خاطر وہ کام کرلے اگرچہ واجب نہیں ہے۔ مظلوم کی مدد کرنا کی تشریح میں علماء لکھتے ہیں کہ مظلوم کی مدد کرنا واجب ہے اور اس حکم میں مسلمان اور ذمی دونوں برابر کے شریک ہیں یعنی جس طرح ایک مظلوم مسلمان کی مدد کرنا واجب ہے اسی طرح اس مظلوم کافر (ذمی) کی مدد کرنا بھی واجب ہے جو اسلامی ریاست کا تابعدار شہری بن کر رہتا ہو اور جزیہ (ٹیکس) ادا کرتا ہے پھر مدد بھی عام ہے اگر لسانی مدد کی ضرورت ہو تو زبان و قول سے مدد کی جائے اور فعلی مدد کی ضرورت ہو تو فعل، عمل کے ذریعہ مدد کی جائے۔ میثرہ) اس زین پوش کو کہتے ہیں جس میں روئی بھری ہوئی ہوتی ہے اور اسے گھوڑے وغیرہ کی سواری کی زین پر ڈال کر اس پر بیٹھتے ہیں اسے نمد زین بھی کہتے ہیں دنیا داروں کی عادت ہے کہ وہ اس زین پوش کو از راہ تکبر و رعونت حریر و دیباج وغیرہ سے بناتے ہیں۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ زین پوش حریر کا ہو تو خواہ وہ کسی بھی رنگ کا ہو حرام ہے۔ ہاں اگرچہ حریر کا نہ ہو مگر سرخ رنگ کا ہو تو اس کا استعمال مکروہ ہے۔ اگر سرخ رنگ کا نہ ہو تو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ قسی ایک کپڑے کا نام تھا جو ریشم اور کنان سے بنا جاتا تھا اور قس کی طرف منسوب تھا جو مصر کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ حدیث میں چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح سونے کے برتن کا استعمال بھی ممنوع ہے بلکہ سونے کے برتن میں استعمال کرنا چاندی کے برتن استعمال کرنے سے بھی زیادہ گناہ ہے اس حدیث میں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے ان کا تعلق صرف مردوں سے ہے عورتوں سے نہیں ہے ہاں چاندی سونے کے برتن کے استعمال کی ممانعت مرد و عورت دونوں کے لئے ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ آخرت میں اسے چاندی کے برتن میں پینا نصیب نہ ہوگا کی صحیح وضاحت یہ ہے کہ جس شخص نے ندیا میں چاندی کا برتن استعمال کیا اسے آخرت میں اس وقت تک کہ اس کے عذاب کی مدت ختم نہ ہوجائے۔ چاندی کے برتن میں پینا نصیب نہ ہوگا۔ یا وقف اور حساب کے وقت اسے چاندی کے برتن میں پینا نصیب نہ ہوگا یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی وہ کچھ عرصہ تک اس سے محروم رہے گا پھر بعد میں یہ پابندی اس سے ختم کردی جائے گی، یہی مراد اس حدیث کی ہے جس میں (مردوں کے لئے) ریشم پہننے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ من لبسہ فی الدنیا لم یلبسہ فی الآخرۃ (یعنی جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا اسے آخرت میں ریشم پہننا نصیب نہیں ہوگا) اسی طرح اس حدیث کی بھی یہی وضاحت ہے جس میں شراب کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ من شربہا فی الدنیا لم یشربھا فی الآخرۃ (یعنی جس نے دنیا میں شراب پی اسے آخرت میں شراب پینا نصیب نہ ہوگا۔
Top