Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1368 - 1433)
Select Hadith
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
1391
1392
1393
1394
1395
1396
1397
1398
1399
1400
1401
1402
1403
1404
1405
1406
1407
1408
1409
1410
1411
1412
1413
1414
1415
1416
1417
1418
1419
1420
1421
1422
1423
1424
1425
1426
1427
1428
1429
1430
1431
1432
1433
مشکوٰۃ المصابیح - - حدیث نمبر 1640
وعن عائشة قالت سأل أناس رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكهان فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم إنهم ليسوا بشيء قالوا يا رسول الله فإنهم يحدثون أحيانا بالشيء يكون حقا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك الكلمة من الحق يخطفها الجني فيقرها في أذن وليه قر الدجاجة فيخلطون فيها أكثر من مائة كذبة .
کہانت کوئی حقیقت نہیں ہے
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا (کہ ان کی بتائی ہوئی باتوں پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں) تو رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ وہ کچھ نہیں ہیں یعنی وہ جن باتوں کا دعوی کرتے ہیں وہ بےبنیاد ہوتی ہیں اس لئے ان کی بتائی ہوئی باتوں پر اعتماد بھروسہ مت کرو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بعض دفعہ وہ ایسی بات بتاتے ہیں یا ایسی خبر دیتے ہیں۔ جو سچ ہوتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ بات حق ہوتی ہے جس کو جن (یعنی شیطان) اچک لیتا ہے اور اپنے دوست (کاہن) کے کان میں اس طرح ڈال دیتا ہے۔ جس طرح مرغ کوئی دوسرے مرغ کو دانہ لینے کے لئے بلاتا ہے پھر وہ کاہن اس بات میں سو سے زیادہ جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
وہ بات حق ہوتی ہے جس کو جن اچک لیتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ کاہنوں کی جو باتیں یا بعض چیزیں صحیح ثابت ہوتی ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب ذات حق جل مجدہ سے کوئی حکم بذریعہ وحی فرشتوں تک آتا ہے یا لوح محفوظ کی کوئی بات فرشتوں پر منکشف ہوتی ہے تو کسی طرح سے جنات و شیاطین ان فرشتوں سے اس بات یا حکم کو سن لیتے ہیں اور اس کو ان لوگوں کے کان میں پھونک دیتے ہیں جو ان جنات اور شیاطین کے پیروکار ہوتے ہیں (یعنی وہ کاہن) اور پھر وہ کاہن اس ایک بات میں سینکڑوں جھوٹی باتیں ملا کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ بعض حضرات نے لفظ یقرہا فی اذن ولیہ قر الدجاجۃ کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ جس طرح مرغ اپنی مرغی سے جفتی کے وقت اس طرح منی ڈالتا ہے کہ کسی آدمی کو معلوم نہیں ہوتا اسی طرح وہ جن اس آسمانی بات کو اپنے پیروکار کے کان میں اس طور سے ڈالتا ہے کہ اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوتا۔
Top