سنن ابو داؤد - ادب کا بیان - حدیث نمبر 5110
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُکُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّکُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاکُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ
امام سے پہلے رکوع وسجدہ وغیرہ کرنے کی حرمت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن حجر، ابوبکر، ابن حجر، ابوبکر، علی بن مسہر، مختاربن فلفل، انس سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جب نماز پوری کرچکے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگوں میں تمہارا امام ہوں مجھ سے رکوع سجدہ قیام کے ادا کرنے اور سلام پھیرنے میں سبقت نہ کرو میں تم کو آگے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم وہ دیکھو جو میں دیکھتا ہوں تو تم کم ہنسو اور روؤ زیادہ، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے کیا دیکھا فرمایا میں نے جنت دوزخ کو دیکھا۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ one day led us in the prayer, and when he completed the Prayer he turned his face towards us and said: O People, I am your Imam, so do not precede me in bowing and prostration and in standing and turning (faces, i. e. In pronouncing salutation), for I see you in front of me and behind me, and then said: By Him in Whose hand is the life of Muhammad, if you could see what I see, you would have laughed little and wept much more. They said: What did you see, Messenger of Allah? ﷺ He replied: (I saw) Paradise and Hell.
Top