صحيح البخاری - مخلوقات کی ابتداء کا بیان - حدیث نمبر 4571
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا فَقَالَ رَجُلٌ أَکُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَکَتَ حَتَّی قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ ذَرُونِي مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَی أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْئٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُکُمْ عَنْ شَيْئٍ فَدَعُوهُ
اس بات کے بیان میں کہ عمر میں ایک مرتبہ حج فرض کیا گیا ہے۔
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، ربیع بن مسلم، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے پس تم حج کرو تو ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض کیا گیا ہے تو آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے آپ ﷺ نے تین مرتبہ عرض کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں کہتا ہاں تو ہر سال حج واجب ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جن باتوں کو میں چھوڑ دیا کروں تم ان کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھا کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور وہ اپنے نبیوں سے اختلاف کرتے تھے جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم کروں تو حسب استطاعت تم اسے اپنا لو اور جب تمہیں کسی چیز سے روک دوں تو تم اسے چھوڑ دو۔
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ addressed us and said: O people, Allah has made Hajj obligatory for you; so perform Hajj. Thereupon a person said: Messenger of Allah, (is it to be performed) every year? He (the Holy Prophet) kept quiet, and he repeated (these words) thrice, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: If I were to say "Yes," it would become obligatory (for you to perform it every year) and you would not be able to do it. Then he said: Leave me with what I have left to you, for those who were before you were destroyed because of excessive questioning, and their opposition to their apostles. So when I command you to do anything, do it as much as it lies in your power and when I forbid you to do anything, then abandon it.
Top