صحيح البخاری - حیض کا بیان - حدیث نمبر 3253
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی إِلَّا الْحَجَّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ أَنَفِسْتِ يَعْنِي الْحَيْضَةَ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ هَذَا شَيْئٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّی تَغْتَسِلِي قَالَتْ وَضَحَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ
احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، عمرو، سفیان بن عیینہ، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارا حج کے سوا کوئی ارادہ نہیں تھا یہاں تک کہ جب سرف کے مقام پر یا اس کے قریب پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی نبی ﷺ میری طرف تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو حائضہ ہوگئی ہے؟ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو وہ چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے تو تو حج کے مناسک ادا کر سوائے اس کے کہ تو بیت اللہ کا طواف نہ کر جب تک کہ تو غسل نہ کرلے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی۔
Aisha (Allah be pleased with her) said: We proceeded with the Apostle of Allah ﷺ with no other intention but that of performing the Hajj. As I was at Sarif or near it, I entered in the state of menses. The Apostle of Allah ﷺ came to me and I was weeping, whereupon he said: Are you in a state of menses? I said. Yes. whereupon he said: This is what Allah has ordained for all the daughters of Adam. Do whatever the pilgrim does except that you should not circumambulate the House till you have washed yourself (at the end of the menses period). And the Messenger of Allah ﷺ offered sacrifice of a cow on behalf of his wives.
Top