صحیح مسلم - - حدیث نمبر 7029
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَائُوا بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُکَ وَخَلِيلُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنِّي عَبْدُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنَّهُ دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوکَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِکَ الثَّمَرَ
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم ؓ کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب لوگ شروع کا پھل دیکھتے تو وہ اسے نبی ﷺ کی طرف لے آتے تو رسول اللہ ﷺ اسے پکڑتے اور دعا فرماتے اے اللہ ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت عطا فرما اے اللہ! ابراہیم (علیہ السلام) تیرے بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں اور انہوں نے مکہ کے لئے تجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تجھ سے ان دعاؤں کا دو گنا کی دعا کرتا ہوں جو کہ تجھ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کے لئے کی تھیں پھر آپ ﷺ کسی چھوٹے بچے کو بلا کر اسے یہ پھل عطا فرماتے۔
Abu Hurairah (RA) reported that when the people saw the first fruit (of the season or of plantation) they brought it to Allahs Apostle ﷺ . When he received it he said: O Allah, bless us in our fruits; and bless us in our city; and bless us in our sas and bless us in our mudd. O Allah, Ibrahim was Thy servant, Thy friend, and Thy apostle; and I am Thy servant and Thy apostle. He (Ibrahim) made supplication to Thee for (the showering of blessings upon) Makkah, and I am making supplication to Thee for Madinah just as he made supplication to Thee for Makkah, and the like of it in addition. He would then call to him the youngest child and give him these fruits.
Top