صحيح البخاری - اذان کا بیان - حدیث نمبر 1851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا بَشِّرَا وَيَسِّرَا وَعَلِّمَا وَلَا تُنَفِّرَا وَأُرَاهُ قَالَ وَتَطَاوَعَا قَالَ فَلَمَّا وَلَّی رَجَعَ أَبُو مُوسَی فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنْ الْعَسَلِ يُطْبَخُ حَتَّی يَعْقِدَ وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنْ الشَّعِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ مَا أَسْکَرَ عَنْ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ
اس بات کے بیان میں کہ ہر نشہ والی چیز خمر ہے اور ہر ایک خمر حرام ہے۔
محمد بن عباد، سفیان، عمرو سعید بن ابوبردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے اور حضرت معاذ ؓ کو علاقہ یمن کی طرف بھیجا تو ہم سے فرمایا ان لوگوں کو خوش رکھنا اور ان پر آسانی کرنا اور ان کو دین کی باتیں سکھانا اور ان کو نفرت نہ دلانا اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا تم دونوں اتفاق سے رہنا جب آپ ﷺ نے پشت پھیری تو حضرت ابوموسی ؓ واپس لوٹے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ علاقہ یمن میں شہد سے ایک شراب پکائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ جم جاتی ہے اور مزر شراب جو سے بنائی جاتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شراب نماز سے بےہوش کر دے وہ حرام ہے۔
Abu Burda reported on the authority of his grandfather that Allahs Messenger ﷺ sent him and Muadh bin Jabal to Yemen and said to them: Give good tidings to the (people) and make things easy (for them), teach (them), and do not repel (them); and I think he also said: Cooperate cheerfully with each other. When he (the Holy Prophet) turned his back, Abu Musa returned to him and said: Allahs Messenger, they (the people of Yemen) have a drink which is (made) from honey and which is prepared by cooking it until it coagulates, and Mizr is prepared from barley, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Every intoxicant that detains you from prayer is forbidden.
Top