صحيح البخاری - فضائل قرآن - حدیث نمبر 4964
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَمْکُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا قَالَتْ فَتَوَاطَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْکَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی قَوْلِهِ إِنْ تَتُوبَا لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا
اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی
محمد بن حاتم، حجاج بن محمد، ابن جریج، عطاء، عبید بن عمر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ زینب بنت جحش ؓ کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے پس میں نے اور حفصہ ؓ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس بھی نبی کریم ﷺ تشریف لائیں تو وہ یہ کہے کہ میں آپ ﷺ سے مغافیر (پیاز کی ایک قسم) کی بو پاتی ہوں کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے آپ ﷺ ان میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے آپ ﷺ سے یہی کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش ؓ کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ ہرگز نہ پیوں گا تو یہ آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِه حَدِيْثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِه وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَه وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِه قَالَتْ مَنْ اَنْ بَاَكَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ ) 66۔ التحریم: 1) اے نبی ﷺ آپ ﷺ اپنے اوپر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ ﷺ کے لئے حلال رکھا ہے اور فرمایا یہ دونوں عائشہ وحفصہ اگر توبہ کرلیں تو ان کے دل جھک گئے اور یہ جو فرمایا (وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا) نبی کریم ﷺ نے ایک بات اپنی بعض ازواج سے چپکے سے کہا اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔
Aisha (Allah be pleased with her) narrated that Allahs Apostle ﷺ used to spend time with Zainab daughter of Jahsh and drank honey at her house. She (Aisha further) said: I and Hafsa agreed that one whom Allahs Apostle ﷺ would visit first should say: I notice that you have an odour of the Maghafir (gum of mimosa). He (the Holy Prophet) visited one of them and she said to him like this, whereupon he said: I have taken honey in the house of Zainab bint Jabsh and I will never do it again. It was at this (that the following verse was revealed): Why do you hold to be forbidden what Allah has made lawful for you... (up to). If you both (Aisha and Hafsa) turn to Allah" up to: "And when the Holy Prophet ﷺ confided an information to one of his wives" (lxvi. 3). This refers to his saying: But I have taken honey.
Top