صحيح البخاری - نماز کے اوقات کا بیان - حدیث نمبر 1532
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَی فِيهِ اللَّحْمُ وَذَکَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ کَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ أَفَأَذْبَحُهَا قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَقَالَ لَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا قَالَ وَانْکَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی کَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَی غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا
قربانی کے وقت کا بیان
یحییٰ بن ایوب، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن علیہ، عمرو، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، محمد، انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر (دس ذی الحجہ) کو فرمایا جس آدمی نے نماز سے پہلے قربانی کرلی تو اسے چاہئے کہ وہ قربانی دوبارہ کرے تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی یہ ایک ایسا دن ہے کہ جس میں گوشت کی خواہش کی جاتی ہے اور اس آدمی نے اپنے ہمسایوں کی محتاجگی کا ذکر کیا رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کی ان باتوں کی تصدیق فرمائی اس آدمی نے یہ بھی عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کی ایک بکری ہے جو گوشت کی بکریوں سے زیادہ مجھے محبوب ہے کیا میں اسے ذبح کرلوں؟ آپ ﷺ نے اسے اجازت عطا فرما دی راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ اجازت اس آدمی کے علاوہ دوسروں کو بھی دی یا نہیں؟ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ذبح فرمایا پھر لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ان کا گوشت تقسیم کیا۔
Anas (b. Malik) reported Allahs Messenger ﷺ having said on the day of Nahr (Sacrifice): He who slaughtered (the animal as a sacrifice) before the (Id) prayer. should repeat it (i. e. offer another animal). Thereupon a person stood up and said: Messenger of Allah, that is the day when meat is much desired, and he also made a mention of the need of his neighbour, and perhaps Allahs Messenger ﷺ attested it. He (the person who had sacrificed the animal before the Id prayer) said: I have a goat of less than one year of age with me and I like it more than two fleshy goats; should I offer it as a sacrifice? He permitted him to do so. He (the narrator) said: I do not know whether this permission was granted to anyone else besides him or not. Allahs Messenger ﷺ then turned towards two rams. and he slaughtered them, and the people came to the goats and got them distributed amongst themselves (for offering them as sacrifice).
Top