صحيح البخاری - اجازت لینے کا بیان - حدیث نمبر 1026
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِ الم تَنْزِيلُ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی وَفِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ لَمْ يَکُنْ شَيْئًا مَذْکُورًا
جمعہ کے دن نماز فجر میں کیا پڑھے ؟
ابوطاہر، ابن وہب، ابراہیم بن سعد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں سورت (الم تَنْزِيلُ اور دوسری رکعت میں سورت هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ لَمْ يَکُنْ شَيْئًا مَذْکُورًا) پڑھا کرتے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ used to recite in the dawn prayer on Friday:" Alif-Lam-Mim, Tanzil" in the first rakah, and in the second one:" Surely there came over the man a time when he was nothing that could be mentioned."
Top