صحيح البخاری - کھیتی اور بٹائی کے متعلق - حدیث نمبر 5010
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَائَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَاذَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ فَقَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ مَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ مَا قُلْتُ لَکَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ مَاذَا عِنْدَکَ يَا ثُمَامَةُ فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَکَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ فَانْطَلَقَ إِلَی نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنْ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا کَانَ عَلَی الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِکَ فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُکَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ کُلِّهَا إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا کَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِکَ فَأَصْبَحَ دِينُکَ أَحَبَّ الدِّينِ کُلِّهِ إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا کَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِکَ فَأَصْبَحَ بَلَدُکَ أَحَبَّ الْبِلَادِ کُلِّهَا إِلَيَّ وَإِنَّ خَيْلَکَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَی فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ أَصَبَوْتَ فَقَالَ لَا وَلَکِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيکُمْ مِنْ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّی يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قیدیوں کو باندھنے گرفتار کرنے اور ان پر احسان کرنے کے جواز کے بیان میں
قتبیہ بن سعید، لیث بن سعید بن ابوسعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا تو وہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو لائے جسے ثمامہ بن اثال اہل یمامہ کا سردار کہا جاتا تھا صحابہ نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اے ثمامہ کیا خبر ہے؟ اس نے عرض کیا اے محمد ﷺ خیر ہے اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو قتل کریں گے اور اگر آپ ﷺ احسان فرمائیں تو شکر گزار آدمی پر احسان کریں گے اور اگر مال کا ارادہ فرماتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی چاہت کے مطابق عطا کیا جائے گا آپ ﷺ اسے ویسے ہی چھوڑ کر تشریف لے گئے یہاں تک کہ اگلے دن آپ ﷺ نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ اگر آپ ﷺ احسان کریں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو ہی قتل کریں گے اور اگر آپ ﷺ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کے مطالبہ کے مطابق آپ ﷺ کو عطا کیا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی طرح چھوڑ دیا یہاں تک کہ اگلے روز آئے تو فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میری وہی بات ہے جو عرض کرچکا ہوں اگر آپ ﷺ احسان فرمائیں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ ﷺ قتل کریں تو ایک طاقتور آدمی کو ہی قتل کریں گے اور آپ ﷺ مال کا ارادہ کرتے ہیں تو مانگئے آپ ﷺ کے مطالبہ کے مطابق آپ ﷺ کو دے دیا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو وہ مسجد کے قریب ہی ایک باغ کی طرف چلا غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اے محمد ﷺ! اللہ کی قسم زمین پر کوئی ایسا چہرہ نہ تھا جو مجھے آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ مبغوض ہو پس اب آپ ﷺ کا چہرہ اقدس مجھے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے اور اللہ کی قسم آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی نہ تھا پس آپ ﷺ کا شہر میرے نزدیک تمام شہروں سے زیادہ پسندیدہ ہوگیا ہے اور آپ ﷺ کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ رکھتا تھا آپ ﷺ کا کیا مشورہ ہے آپ ﷺ نے اسے بشارت دی اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کرے جب وہ مکہ آیا تو اسے کسی کہنے والے نے کہا کیا تم صحابی یعنی بےدین ہوگئے اس نے کہا نہیں بلکہ میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اللہ کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا یہاں تک کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ اجازت مرحمت نہ فرما دیں۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: The Messenger of Allah ﷺ sent some horsemen to Najd. They captured a man. He was from the tribe of Banu Hanifa and was called Thumama bin Uthal. He was the chief of the people of Yamama. People bound him with one of the pillars of the mosque. The Messenger of Allah ﷺ came out to (see) him. He said: O Thumama, what do you think? He replied: Muhammad, I have good opinion of you. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you do me a favour, you will do a favour to a grateful person. If you want wealth, ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah ﷺ (may peace be pon him) left him (in this condition) for two days, (and came to him again) and said: What do you think, O Thumama? He replied: What I have already told you. If you do a favour, you will do a favour to a grateful person. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you want wealth, ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah ﷺ left him until the next day when he (came to him again) and said: What do you think, O Thumama? He replied: What I have already told you. If you do me a favour, you will do a favour to a grateful person. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you want wealth ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah ﷺ said: Set Thumama free. He went to a palm-grove near the mosque and took a bath. Then he entered the mosque and said: I bear testimony (to the truth) that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His bondman and His messenger. O Muhammad ﷺ , by Allah, there was no face on the earth more hateful to me than your face, but (now) your face has become to me the dearest of all faces. By Allah, there was no religion more hateful to me than your religion, but (now) your religion has become the dearest of all religions to me. By Allah, there was no city more hateful to me than your city, but (now) your city has become the dearest of all cities to me. Your horsemen captured me when I intended going for Umrah. Now what is your opinion (in the matter)? The Messenger of Allah ﷺ announced good tidings to him and told him to go on Umrah. When he reached Makkah, somebody said to him: Have you changed your religion? He said: No! I have rather embraced Islam with the Messenger of Allah ﷺ . By Allah, you will not get a single grain of wheat from Yamama until it is permitted by the Messenger of Allah ﷺ .
Top