صحيح البخاری - نکاح کا بیان - حدیث نمبر 1589
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَکُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ النِّسَائِ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِکَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا
نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی۔
محمد بن عبداللہ ابن نمیر، عبدالعزیز ابن عمر، حضرت ربیع بن سبرہ جہنی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی تھی اور تحقیق اللہ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے پس جس کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو تو اسے آزاد کر دے اور ان سے جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے نہ لے۔
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father that while he was with Allahs Messenger (may peace be upon hm) he said: O people, I had permitted you to contract temporary marriage with women, but Allah has forbidden it (now) until the Day of Resurrection. So he who has any (woman with this type of marriage contract) he should let her off, and do not take back anything you have given to them (as dower).
Top