سنن النسائی - شرطوں سے متعلق احادیث - حدیث نمبر 3895
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنْ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّی إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ
رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں
ابوطاہر احمد بن عمر بن سرح عبداللہ بن وہب، یونس حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن غزوہ کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے ان تمام مسلمانوں کے ساتھ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے حنین کی طرف نکلے حنین میں مسلمانوں نے قتال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی مدد فرمائی اس دن رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ کو سو اونٹ عطا فرمائے پھر سو اونٹ عطا فرمائے پھر سوا ونٹ عطا فرمایا حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ صفوان کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا فرمایا جتنا عطا فرمایا اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھے مبغوض تھے اور آپ ﷺ ہمیشہ مجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوگئے۔
Ibn Shihab reported that Allahs Messenger ﷺ went on the expedition of Victory, i. e. the Victory of Makkah, and then he went out along with the Muslims and they fought at Hunain, and Allah granted victory to his religion and to the Muslims, and Allahs Messenger ﷺ gave one hundred camels to Safwan bin Umayya. He again gave him one hundred camels, and then again gave him one hundred camels. Said bin Musayyib said that Safwan told him: (By Allah) Allahs Messenger ﷺ gave me what he gave me (and my state of mind at that time was) that he was the most detested person amongst people in my eyes. But he continued giving to me until now he is the dearest of people to me.
Top