صحیح مسلم - فضائل قرآن کا بیان - حدیث نمبر 1460
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَی النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَائُ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا خَفِيفًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ
عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استحباب کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم وکیع، سفیان، محمد بن عقبہ، کریب، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس گھاٹی پر آئے جس جگہ امراء لوگ اترتے ہیں آپ ﷺ اترے اور آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور پانی بہانے کا نہیں کہا پھر آپ ﷺ نے وضو کے لئے پانی منگوایا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا مختصر وضو حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی نماز کچھ آگے چل کر پڑھیں گے۔
Usama bin Zaid (RA) reported that when Allahs Messenger ﷺ came to the valley where the rich (people of Makkah) used to get down, he got down and urinated (and he did not mention about pouring water); he then called for water and performed a light ablution. I said: Messenger of Allah, the prayer. Thereupon he said: Prayer awaits you ahead.
Top