صحيح البخاری - نماز کے اوقات کا بیان - حدیث نمبر 4231
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قِيلَ لَهُ الْإِحْرَامُ مِنْ الْبَيْدَائِ قَالَ الْبَيْدَائُ الَّتِي تَکْذِبُونَ فِيهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ
مدینہ والوں کے لئے ذی الحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھنے کے حکم کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، حاتم یعنی ابن اسماعیل، موسیٰ بن عقبہ، حضرت سالم سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ سے جب کہا جاتا کہ احرام تو بیداء سے ہے تو آپ فرماتے کہ بیداء تو وہ ہے جس کے بارے میں تم رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولتے ہو رسول اللہ ﷺ نے تلبیہ نہیں پڑھا سوائے اس درخت کے پاس جس جگہ آپ ﷺ کا اونٹ آپ ﷺ کو لے کر کھڑا ہوگیا۔
Salim reported that when it was said to Ibn Umar (RA) that the state of Ihram (commences from) al-Baida he said: Al-Baida, you attribute lie about it to the Messenger of Allah ﷺ . And the Messenger of Allah ﷺ did not enter upon the state of Ihram but near the-tree when his camel stood up with him.
Top