صحيح البخاری - حیلوں کا بیان - حدیث نمبر 5109
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَا تَکْتُبُوهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا سَيِّئَةً وَإِذَا هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاکْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا عَشْرًا
اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، ابن عیینہ، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے اس کے نامہ اعمال میں نہ لکھو اگر وہ اس پر عمل کرے تو ایک گناہ لکھو اور جب کسی نیکی کا ارادہ کرے لگے اس نیکی پر عمل نہ کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھو اور اگر اس نیکی پر عمل کرلے تو اس کی ایک نیکی کے بدلہ میں اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھو۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The Great and the Glorious Lord said (to angels): Whenever My bondsman intends to corn it an evil, do not record it against him, but if he actually commits it, then write it as one evil. And when he intends to do good but does not do it, then take it down is one act of goodness, but if he does it, then write down ten good deeds (in his record).
Top