سنن الترمذی - کھانے کا بیان - حدیث نمبر 6518
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ وَکَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنْ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں
احمد بن ابراہیم دورقی، عبدالصمد بن عبدالوارث، حرب ابن شداد، یحییٰ ابن کثیر، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ایک زمین میں جھگڑا تھا اور وہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ؓ سے اس جھگڑے کا ذکر کیا تو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا اے ابوسلمہ! زمین سے پرہیز کر کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بالشت بھر زمین کے برابر بھی ظلم کرے تو اسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔
Muhammad bin Ibrahim said that Abu Salama reported to him that there was between him and his people dispute over a piece of land, and he came to Aisha and mentioned that to her, whereupon she said: Abu Salama, abstain from getting this land, for Allahs Messenger ﷺ said: He who usurps even a span of land would be made to wear around his neck seven earths.
Top