سنن الترمذی - کھانے کا بیان - حدیث نمبر 7510
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ کُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ أَمَّا الْحُلَّةُ فَإِنَّمَا شُبِّهَ عَلَی النَّاسِ فِيهَا أَنَّهَا اشْتُرِيَتْ لَهُ لِيُکَفَّنَ فِيهَا فَتُرِکَتْ الْحُلَّةُ وَکُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ فَأَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ لَأَحْبِسَنَّهَا حَتَّی أُکَفِّنَ فِيهَا نَفْسِي ثُمَّ قَالَ لَوْ رَضِيَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ لَکَفَّنَهُ فِيهَا فَبَاعَهَا وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا
میت کو کفن دینے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا جو روئی کے تھے، اس میں قمیض تھی، نہ عمامہ اور رہا حلہ، اس میں ہم کو شبہ ہوگیا، حالانکہ وہ آپ ﷺ کے لئے خریدا گیا تھا تاکہ اس میں آپ ﷺ کو کفن دیں لیکن اس حلہ کو چھوڑ دیا گیا اور آپ ﷺ کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا اور وہ حلہ عبداللہ بن ابی بکر نے لے لیا اور کہا کہ میں اس کو رکھوں گا تاکہ مجھے اسی میں کفن دیا جائے پھر کہنے لگے اگر اللہ کو اپنے نبی کے کفن میں یہ پسند ہوتا تو آپ کو اسی میں کفن دیا جاتا پھر اس کو بیچ دیا اور اس کی قیمت خیرات کردی۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ was shrouded in three cotton garments of white Yamani stuff from Sahul, among which was neither a shirt nor a turban; and so far as Hullah is concerned there was some doubt about it in the minds of people, that it was brought for him in order to shroud him with it, but it was abandoned, and he was shrouded in three cotton garments of white Yamani stuff from Sahul. Then Abdullah bin Abu Bakr (RA) got it and said: I would keep it in order to shroud myself in it. He then said: If Allah, the Exalted and Majestic, would have desired it for His Apostle, he would have been shrouded with it. So he sold it and gave its price in charity.
Top