صحيح البخاری - وصیتوں کا بیان - حدیث نمبر 1222
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّائِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَلْفَ أُمَرَائَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ قَالَ فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي وَقَالَ سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَنْ ذَلِکَ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَکُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً قَالَ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذُکِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ
اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
ابوغسان مسمعی، معاذ، ابن ہشام، مطر، حضرت ابوالعالیہ براء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن صامت ؓ سے کہا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ نماز میں تاخیر کرتے ہیں راوی ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ نے میری ران پر ایک ہاتھ مارا تو مجھے درد ہونے لگا اور فرمایا کہ میں نے بھی اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل کردیا کرو راوی نے کہا کہ حضرت عبداللہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ کی ران پر بھی ہاتھ مارا تھا۔
Abul-Aliyat al-Bara reported: I said to Abdullah bin Samit: We say our Jumua prayer behind those rulers who defer the prayer. He (Abdullah bin Samit), struck. my thigh that I felt pain and said: I asked Abu Dharr (RA) about it, he struck my thigh and said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about it. Upon this he said: Observe prayer at its prescribed time, and treat prayer along with them (along with those Imams who deter prayer) as Nafl. Abdullah said: It was narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ struck the thigh of Abu Dharr.
Top