صحيح البخاری - تفاسیر کا بیان - حدیث نمبر 1547
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنْ الْبُقُولِ فَقَالَ قَرِّبُوهَا إِلَی بَعْضِ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآهُ کَرِهَ أَکْلَهَا قَالَ کُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي
لہسن پیاز اور بدبو دارچیز یا اس جیسی کوئی اور چیز کھا کر مسجد میں جانے کی ممانعت کے بیان میں جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے اور یا مسجد سے نکل جائے۔
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء بن ابی رباح، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے پیاز یا لہسن کھایا وہ ہم سے علیحدہ رہے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ایک مرتبہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں سالن تھا آپ ﷺ نے اس میں بدبو محسوس کی آپ ﷺ نے اس سالن کے بارے میں پوچھا کہ اس میں کیا ہے آپ ﷺ کو اس بارے میں خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ میں نے سے ایک صحابی کے ہاں اسے بھیجنے کا حکم فرمایا چونکہ آپ ﷺ نے اس کھانے کو ناپسند فرمایا اس لئے آپ ﷺ کے اس صحابی نے بھی اس کھانے کو ناپسند فرمایا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم کھاؤ کیونکہ میں فرشتوں سے مناجات کرتا ہوں تم ان سے مناجات نہیں کرتے۔
Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ said: He who eats garlic or onion should remain away from us or from our mosque and stay in his house. A kettle was brought to him which had (cooked) vegetables in it, He smelt (offensive) odour in it. On asking he was informed of the vegetables (cooked in it). He said: Take it to such and such Companion. When he saw it, he also disliked eating it. (Upon this), he (the Holy Prophet) said: You may eat it, for I converse with one with whom you do not converse.
Top