صحيح البخاری - توحید کا بیان - حدیث نمبر 1314
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا
اپنے مسلمان بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرنے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور محمد بن رافع ابن رافع عبدالرزاق، معمر، ایوب عمرو بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا تو وہ انصاری نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ سے قصاص کے لئے عرض کیا نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ نازیبا بات ہے ابن منصور نے کہا کہ عمرو کی روایت میں سَمِعْتُ جَابِرًا ہے۔
Jabir bin Abdullah reported that a person from the emigrants struck the back of an Ansari. He came to Allahs Apostle ﷺ and asked for compensation. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Leave it. for it is something disgusting. Ibn Mansur said that in the narration transmitted on the authority of Amr (these words are also found):" I heard Jabir."
Top