صحیح مسلم - - حدیث نمبر 1081
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ خَطَبَ النَّاسَ فَذَکَرَ مَکَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ يَذْکُرْ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ مَا لِي أَسْمَعُکَ ذَکَرْتَ مَکَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ تَذْکُرْ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا وَذَلِکَ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُکَهُ قَالَ فَسَکَتَ مَرْوَانُ ثُمَّ قَالَ قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِکَ
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم ؓ کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال عتبہ، بن مسلم، حضرت نافع بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے مکہ اور مکہ کے رہنے والوں اور مکہ کی حرمت کا تذکرہ کیا تو رافع بن خدیج ؓ نے مروان کو پکارا اور فرمایا کہ میں تجھ سے کیا سن رہا ہوں کہ تو مکہ اور مکہ والوں کا اور مکہ کی حرمت کا ذکر کر رہا ہے اور تو مدینہ اور مدینہ کے رہنے والوں اور مدینہ کی حرمت کا ذکر نہیں کر رہا رسول اللہ ﷺ نے اس پتھریلے علاقے کے دونوں کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے اور یہ حکم نامہ ہمارے پاس خولانی چمڑے پر لکھا ہوا موجود ہے اگر تو چاہے تو میں اس سے پڑھ کر سناؤں راوی کہتے ہیں کہ مروان خاموش ہوگیا پھر کہا میں نے کچھ اسی طرح سنا ہے۔
Nafi bin Jubair reported that Marwan bin al-Hakam (RA) addressed people and made mention of Makkah and its inhabitants and its sacredness, but he made no mention of Madinah, its inhabitants and its sacredness. Rafi bin Khadij called to him and said: What is this that I hear you making mention of Makkah and its inhabitants and its sacredness, but you did not make mention of Madinah and its inhabitants and its sacredness, while the Apostle of Allah ﷺ has also declared sacred (the area) between its two lava lands (Madinah)? And (we have record of this) with us written on Khaulani parchment. If you like, I can read it out to you. Thereupon Marwan became silent, and then said: I too have heard some part of it.
Top