سنن النسائی - میقاتوں سے متعلق احادیث - حدیث نمبر 626
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُصُّ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ مَنْ أَدْرَکَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِکَ قَالَ فَکِلْتَاهُمَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی مَرْوَانَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ مَرْوَانُ عَزَمْتُ عَلَيْکَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ قَالَ فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو بَکْرٍ حَاضِرُ ذَلِکَ کُلِّهِ قَالَ فَذَکَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَهُمَا قَالَتَاهُ لَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ هُمَا أَعْلَمُ ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا کَانَ يَقُولُ فِي ذَلِکَ إِلَی الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ ذَلِکَ مِنْ الْفَضْلِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا کَانَ يَقُولُ فِي ذَلِکَ قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِکِ أَقَالَتَا فِي رَمَضَانَ قَالَ کَذَلِکَ کَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ
جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، ابن جریج، عبدالملک بن ابی بکربن عبدالرحمن، حضرت ابوبکر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ وہ اپنی روایات بیان کرتے ہیں جس آدمی نے جنبی حالت میں صبح کی تو وہ روزہ نہ رکھے، راوی حضرت ابوبکر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر اپنے باپ عبدالرحمن بن حارث سے کیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تو حضرت عبدالرحمن چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبدالرحمن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ مروان کے پاس آگئے حضرت عبدالرحمن نے مروان سے اس بارے میں ذکر کیا تو مروان نے کہا کہ میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ تم ضرور حضرت ابوہریرہ ؓ کی طرف جاؤ اور اس کی تردید کرو جو وہ کہتے ہیں تو ہم حضرت ابوہریرہ ؓ کے پاس آئے اور حضرت ابوبکر ؓ بھی وہاں موجود تھے حضرت عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ سارا کچھ ذکر کیا حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کیا ان دونوں نے تجھ سے یہ فرمایا ہے؟ حضرت عبدالرحمن ؓ نے کہا کہ ہاں حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ وہ دونوں اس مسئلہ کو زیادہ جانتی ہیں پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنے اس قول کی جو کہ آپ نے فضل بن عباس ؓ سے سنا تھا اس کی تردید کردی اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے یہ فضل بن عباس ؓ سے سنا تھا اور نبی ﷺ سے نہیں سنا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنے قول سے رجوع کرلیا جو وہ کہا کرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں نے یہ حدیث رمضان کے بارے میں بیان کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح اٹھتے پھر آپ روزہ رکھتے۔
Abu Bakr (RA) (he is Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman bin Harith) reported: I heard Abu Hurairah (RA) narrating that he who is overtaken by dawn in a state of seminal emission should not observe fast. I made a mention of it to Abdul Rahman bin Harith (i. e. to his father) but he denied it. Abdul Rahman went and I also went along with him till we came toAisha and Umm Salamah (Allah be pleased with both of them) and Abdul Rahman asked them about it. Both of them said: (At times it so happened) that the Apostle of Allah ﷺ woke up in the morning in a state of junub (but without seminal emission in a dream) and observed fast. He (the narrator) said: We then proceeded till we went to Marwan and Abdul Rahman made a mention of it to him. Upon this Marwan said: I stress upon you (with an oath) that you better go to Abu Hurairah (RA) and refer to him what is said about it. So we came to Abu Hurairah (RA) and Abu Bakr (RA) had been with us throughout and Abdul Rahman made a mention of it to him, whereupon Abu Hurairah (RA) said: Did they (the two wives of the Holy Prophet) tell you this? He replied: Yes. Upon this ( Abu Hurairah (RA) ) said: They have better knowledge. Abu Hurairah (RA) then attributed that what was said about it to Fadl bin Abbas and said: I heard it from Fadl and not from the Apostle of Allah ﷺ . Abu Hurairah (RA) then retracted from what he used to say about it. Ibn Juraij (one of the narrators) reported: I asked Abdul Malik, if they (the two wives) said (made the statement) in regard to Ramadan, whereupon he said: It was so, and he (the Holy Prophet) (woke up in the) morning in a state of junub which was not due to the wet dream and then observed fast.
Top