صحيح البخاری - نکاح کا بیان - حدیث نمبر 2575
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنْ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنْ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُسْکِرٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْکِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
اس بات کے بیان میں کہ ہر نشہ والی چیز خمر ہے اور ہر ایک خمر حرام ہے۔
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، عمارہ بن غزیہ، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ چیستان سے ایک آدمی آیا اور چیستان ایک شہر ہے اس آدمی نے نبی ﷺ سے اس شراب کے بارے میں پوچھا کہ جو ان علاقوں میں پی جاتی تھی اور وہ شراب جو سے تیار ہوتی ہے اس شراب کو مزر کہا جاتا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ شراب نشہ والی ہے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ والی چیز حرام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا اس آدمی کے لئے وعدہ ہے کہ جو آدمی نشہ والی چیز پیئے گا اسے اللہ تعالیٰ طینۃ الخبال پلائیں گے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ طینۃ الخبال کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا دوزخیوں کا پسینہ ہے۔
Jabir reported that a person came from Jaishan, a town of Yemen, and he asked Allahs Apostle ﷺ about the wine which was drunk in their land and which was prepared from millet and was called Mizr. Allahs Messenger ﷺ asked whether that was intoxicating. He said: Yes. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Every intoxicant is forbidden. Verily Allah the Exalted and Majestic, made a covenant to those who drank intoxicants to make their drink Tinat al-Khabal. They said: Allahs Messenger, what is Tinat al-Khabal? He said: It is the sweat of the denizens of Hell or the discharge of the denizens of Hell.
Top