صحيح البخاری - اجازت لینے کا بیان - حدیث نمبر 6454
و حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَتَاکُمْ وَأَمْرُکُمْ جَمِيعٌ عَلَی رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاکُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَکُمْ فَاقْتُلُوهُ
مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈالنے والے کے حکم کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، یونس، ابویعفور عرفجہ، حضرت عرفجہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے تم اپنے معاملات میں کسی ایک آدمی پر متفق ہو پھر تمہارے پاس کوئی آدمی آئے اور تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنا چاہے تو اسے قتل کردو۔
It has been narrated (through a still different chain of transmitters) on the Same authority (i. e. Arfaja) who said similarly-but adding:" Kill all of them." I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When you are holding to one single man as your leader, you should kill who seeks to undermine your solidarity or disrupt your unity.
Top