صحيح البخاری - ادب کا بیان - حدیث نمبر 2354
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ قَالَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُا لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ إِلَّا حَلَّ قُلْتُ لِعَطَائٍ مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِکَ قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَی الْبَيْتِ الْعَتِيقِ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ ذَلِکَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ فَقَالَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ وَکَانَ يَأْخُذُ ذَلِکَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
اس بات کے بیان میں کہ ابن عباس ؓ سے لوگوں کا یہ کہنا کہ آپ کا یہ کیا فتوی ہے کہ جس میں لوگ مشغول ہیں۔
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، ابن جریج، حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کوئی حج کرے یا نہ کرے بیت اللہ کا طواف کرنے سے حلال ہوجاتا ہے میں نے عطاء سے کہا کہ وہ کہاں سے یہ بات فرماتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَی الْبَيْتِ الْعَتِيقِ ) پھر قربانی ذبح کرنے کا محل بیت اللہ ہے راوی نے کہا کہ میں نے کہا کہ قربانی تو عرفات سے واپسی کے بعد ہوتی ہے تو انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس ؓ یہی فرماتے تھے کہ عرفات کے بعد یا عرفات سے پہلے انہوں نے یہ مسئلہ نبی ﷺ کے اس حکم سے لیا جس وقت کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں انہیں احرام کھولنے کا حکم فرمایا۔
Ata said: Ibn Abbas (RA) used to say that a pilgrim or non-pilgrim (one performing Umrah) who circumambulates the House is free from the responsibility of Ihram. I (Ibn Juraij, one of the narrators) said to Ata: On what authority does he ( Ibn Abbas (RA) ) say this? He said: On the authority uf Allahs words: "Then their place of sacrifice is the Ancient House" (al-Quran, xxii. 33). I said: It concerns the time after staying at Arafat, whereupon he said: Ibn Abbas (RA) had stated (that the place of sacrifice is the Ancient House); it may be after staying at Arafat or before (staying there). And he ( Ibn Abbas (RA) ) made this deduction I from the command of Allahs Apostle ﷺ when he had ordered to put off Ihram on the occasion of the Farewell Pilgrimage.
Top