صحيح البخاری - اجازت لینے کا بیان - حدیث نمبر 2022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَکُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِکُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استحباب اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، ابن نمیر، عمر بن عبید، سماک بن حرب، موسیٰ بن طلحہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نماز ادا کرتے اور جانور ہمارے آگے سے گزرتے ہم نے اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز اگر تمہارے آگے ہو تو جو بھی تمہارے سامنے سے گزرے تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔
Musa bin Talha reported on the authority of his father: We used to say prayer and the animals moved in front of us. We mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ and he said: If anything equal to the back of a saddle is in front of you, then what walks in front, no harm would come to him. Ibn Numair said: No harm would come whosoever walks in front.
Top