صحيح البخاری - عیدین کا بیان - حدیث نمبر 964
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّ عِکْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَی بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَی تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا قَالَ إِنَّ الشَّهْرَ يَکُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا
رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی، عکرمہ بن عبدالرحمن بن حارث، حضرت ام سلمہ ؓ خبر دیتی ہیں کہ نبی ﷺ نے قسم اٹھائی کہ آپ ﷺ اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ ﷺ صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ ﷺ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔
Umm Salamah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ took an oath that he would not go to some of his wives for the whole of the month. When twenty-nine days had passed he (the Holy Prophet) went to them in the morning or in the evening. Upon this it was said to him: Apostle of Allah ﷺ , you took an oath that you would not come to us for a month, whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days.
Top