صحيح البخاری - اجازت لینے کا بیان - حدیث نمبر 1959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ إِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَائِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ وَإِذَا حَدَّثْتُکُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَکُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَائُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبداللہ بن سعید اشج، وکیع، اعمش، خیثمہ، حضرت سو ید بن غفلہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا اگر میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث بیان کروں جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی تو مجھے آسمان سے گرپڑنا زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں وہ بات کہوں جو آپ ﷺ نے نہیں بیان فرمائی اور جب وہ بات بیان کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے تو جان لو کہ جنگ دھوکہ بازی کا نام ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے عنقریب اخیر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی نوعمر اور ان کے عقل والے بیوقوف ہونگے بات تو سب مخلوق سے اچھی کریں گے قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نہ اترے گا دین سے وہ اسطرح نکل جائیں گے جیسا کہ تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے جب تم ان سے ملو تو ان کو قتل کردینا کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کو اللہ کے ہاں قیامت کے دن ثواب ہوگا۔
Ali said: Whenever I narrate to you anything from the Messenger of Allah ﷺ believe it to be absolutely true as falling from the sky is dearer to me than that of attributing anything to him (the Holy Prophet) which he never said. When I talk to you of anything which is between me and you (there might creep some error in it) for battle is an outwitting. I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: There would arise at the end of the age a people who would be young in age and immature in thought, but they would talk (in such a manner) as if their words are the best among the creatures. They would recite the Quran, but it would not go beyond their throats, and they would pass through the religion as an arrow goes through the prey. So when you meet them, kill them, for in their killing you would get a reward with Allah on the Day of Judgment.
Top