صحيح البخاری - ادب کا بیان - حدیث نمبر 3539
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًی فَنُذَکِّي بِاللِّيطِ وَذَکَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّی وَهَصْنَاهُ
ہر اس چیز سے ذبح کرنے کے جواز میں کہ جس میں خون بہہ جائے سوائے دانت ناخن اور ہڈی کے۔
ابن ابی عمر، سفیان، اسماعیل بن مسلم، سعید بن مسروق، عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج، رافع، عمر بن سعید، مسروق، عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہے اور ہمارے پاس چھریاں وغیرہ نہیں ہیں کیا ہم بانس کے چھلکے سے ذبح کرلیں؟ اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کی (اور اس میں یہ بھی ہے) راوی حضرت رافع کہتے ہیں کہ ہمارا ایک اونٹ بھاگنے لگا تو ہم نے اسے تیروں سے مارا یہاں تک کہ ہم نے اسے گرا دیا۔
Rafi bin Khadij reported from his grandfather that he said: Allahs Messenger, we are going to encounter the enemy tomorrow, but we do not have long knives with us, should we then slaughter them with the peel of the reed? The rest of the hadith is the same. (And at the end the words are):" A camel became wild (and got out of our control). We attacked it with arrows until we made it fall down."
Top