سنن الترمذی - گواہیوں کا بیان - حدیث نمبر 3552
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَی بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِکَيْ أَنْظُرَ إِلَی لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّی أَکُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ حَرِيصَةً عَلَی اللَّهْوِ
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ میرے حجرے کے دروازہ پر کھڑے ہیں اور حبشی اپنے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ کی مسجد میں کھیل رہے تھے اور آپ ﷺ نے مجھے اپنی چادر میں چھپالیا تاکہ میں ان کی کھیل کود دیکھوں، پھر آپ ﷺ میری وجہ سے کھڑے رہے یہاں تک کہ میں خود واپس چلی گئی تم اندازہ لگاؤ کہ کم سن کھیل کود پر حریص لڑکی کتنی دیر تک کھڑی رہ سکتی ہے؟
Aisha reported: By Allah, I remember the Messenger of Allah ﷺ standing on the door of my apartment screening me with his mantle enabling me to see the sport of the Abyssinians as they played with their daggers in the mosque of the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) kept standing for my sake till I was satiated and then I went back; and thus you can well imagine how long a girl tender of age who is fond of sports (could have watched it).
Top