صحيح البخاری - حدود اور حدود سے بچنے کا بیان - حدیث نمبر 1876
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْکِي يَقُولُ يَا وَيْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ يَا وَيْلِي أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِي النَّارُ
نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ ابوکریب، ابومعاویہ اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب ابن آدم یعنی انسان سجدہ والی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا اور ہائے افسوس کہتا ہوا اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے اور ابی کریب کی روایت میں ہے شیطان کہتا ہے ہائے افسوس ابن آدم کو سجدہ کا حکم کیا گیا تو وہ سجدہ کرکے جنت کا مستحق ہوگیا اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں سجدے کا انکار کرکے جہنمی ہوگیا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that when, the son of Adam علیہ السلامrecites the Ayat of Sajdah (prostration) and then falls down in prostration, the Satan goes into seclusion and weeps and says: Alas, and in the narration of Abu Kuraib the words are: Woe unto me, the son of Adam علیہ السلامwas commanded to prostrate, and he prostrated and Paradise was entitled to him and I was commanded to prostrate, but I refused and am doomed to Hell.
Top