صحيح البخاری - جبر کرنے کا بیان - حدیث نمبر 3780
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَائَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ کَمَا تَتَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ مِنْ الْأُفُقِ مِنْ الْمَشْرِقِ أَوْ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تِلْکَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَائِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ قَالَ بَلَی وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ
اس بات کے بیان میں کہ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح کہ تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
عبداللہ بن جعفر بن یحییٰ بن خالد معن مالک ہارون بن سعید ایلی عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، صفوان بن سلیم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت والے اپنے اوپر کے بالاخانہ والوں کو اس طرح دیکھیں گے کہ جس طرح تم مشرقی یا مغربی کناروں میں چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھتے ہو اس وجہ سے کہ جنت والوں کے درجات میں آپس میں تفاوت ہوگا صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا وہ انبیاء کے درجات ہوں گے کہ جن تک ان کے علاوہ کوئی نہیں پہنچ سکے گا آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کہ ان لوگوں کو بھی وہ درجات عطا کئے جائیں گے کہ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور اس کے رسولوں کی تصدیق کریں۔
Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allahs Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them.
Top